نئی دہلی،10فروری (آئی این ایس انڈیا) راجدھانی دہلی کی خصوصی سی بی آئی عدالت نے دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کے اوایس ڈی جی کے مادھو کو 14 فروری تک کے لئے سی بی آئی ریمانڈ پر بھیج دیا ہے۔سی بی آئی کا دعوی ہے کہ اب تک کی تفتیش کے دوران کئی ایسے حقائق ملے ہیں جن کی بنیاد پر پوچھ گچھ ہونی ضروری ہے۔ساتھ ہی سی بی آئی نے عدالتی حراست میں تہاڑ جیل بھیجے گئے دلال دھیرج گپتا سے بھی دوبارہ پوچھ گچھ کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔خصوصی عدالت نے دھیرج گپتا کو عدالت میں پیش کئے جانے کے لئے منگل کے لئے پروڈکشن وارنٹ جاری کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سی بی آئی دھیرج گپتا اور جی کے مادھو دونوں کو آمنے سامنے بٹھا کر پوچھ گچھ کرنا چاہتی ہے۔سی بی آئی ذرائع کے مطابق جی کے مادھو کو ہفتہ کو دو دن کی سی بی آئی ریمانڈ پر لیا گیا تھا۔اس دوران پوچھ تاچھ کے دوران کئی ایسے حقائق سامنے آئے جن کی بنیاد پر سی بی آئی نے آج پھر خصوصی سی بی آئی عدالت سے جی کے مادھو کو 7 دن کی سی بی آئی ریمانڈ پر بھیجے جانے کا مطالبہ کیا۔سی بی آئی کا کہنا تھا کہ اب تک کی تفتیش کے دوران ٹرانسپورٹرس کی ایک طویل فہرست ملی ہے اور انہیں شک ہے کہ ان تمام ٹرانسپورٹر سے آگاہی کی جاتی رہی ہو گی،لہذا ان سب کے بارے میں دستاویزات دکھا کر جی کے مادھو سے پوچھ گچھ کی جانی باقی ہے۔
ذرائع کے مطابق جی کے مادھو کا نام اب تک تین بار سامنے آیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ چھاپے کے دوران جو دستاویزات برآمد ہوئے ان میں جی کے مادھو کا نام تھا۔اس کے بعد پھنسے دلال دھیرج گپتا نے بھی جی کے مادھو کا نام لیا تھا۔سی بی آئی ذرائع کا دعوی ہے کہ اس کے بعد جی کے مادھو نے پوچھ تاچھ کے دوران کئی ایسے اہم انکشافات کئے ہیں جن کی مکمل تحقیقات کی ضرورت ہے۔ذرائع کا دعوی ہے کہ ان انکشافات سے دہلی کی سیاست سمیت متعددبیوروکریسی حلقوں میں ہنگامہ آ سکتا ہے۔خصوصی سی بی آئی عدالت کے سامنے جی کے مادھو کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان سے زبردستی دستخط کرائے جا رہے ہیں۔دونوں فریق کی بحث سننے کے بعد سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے جی کے مادھو کو 14 فروری تک کے لئے سی بی آئی ریمانڈ پر بھیج دیا۔سی بی آئی ذرائع کا دعوی ہے کہ اس تفتیش کے دوران دلالی کے ایک بڑے نیٹ ورک کا پردہ فاش ہوا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سی بی آئی اب دھیرج گپتا اور جی کے مادھو کو آمنے سامنے بٹھا کر پوچھ گچھ کرے گی۔ساتھ ہی ان سے کچھ دستاویزات کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا۔اس معاملے کی جانچ کی آنچ کچھ بڑے نوکرشاہوں میں کچھ رہنماؤں تک بھی پہنچ سکتی ہے۔